اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ملک کی معاشی، سفارتی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔
اتوار کو بلاؤ گئے اجلاس میں تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم نے اپنے دورہٴ امریکہ، برطانیہ، اور آئی ایم ایف کے ساتھ پیش رفت سے کابینہ کو آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہو چکا ہے اور اگلی قسط جلد موصول ہو جائے گی۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے معاشی اقدامات اور ثالثی کے کردار کو سراہا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم 80 سال کے معاشی بوجھ کو راتوں رات ختم نہیں کر سکتے تاہم ملک بتدریج ترقی کی جانب گامزن ہے اور فیول سبسڈی کی کامیابی اس کا ثبوت ہے۔
سفارتی محاذ پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخ کے بہترین تعلقات قائم ہیں جس کے لیے محسن نقوی نے تہران کے متعدد اہم دورے کیے۔
خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باب المندب میں جاری کشیدگی اور حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے ناقابلِ برداشت ہیں۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہماری ریڈ لائنز ہیں اور پاکستان اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ ہر حالت میں کھڑا رہے گا۔ ہم اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
داخلہ سیکیورٹی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد عام شہریوں، بچوں، پولیس اور پاک فوج کے جوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 2 سال سے مسلسل دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ صوبائی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا کو پولیس اور سی ٹی ڈی (CTD) کو مضبوط کرنے کے لیے 800 ارب روپے فراہم کیے گئے لیکن وہ پیسے کہاں گئے اور وسائل کیوں فراہم نہیں کیے گئے؟
اس کے باوجود کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو چن چن کر مار رہی ہیں، صوبائی انتظامیہ وفاق کا ساتھ دینے کے بجائے خاموش ہے۔
وزیراعظم نے سیاسی صورتحال اور پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد پر لانگ مارچ کی کال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کی بہتری کے اس دور میں لانگ مارچ کر کے وفاق پر حملے کا منصوبہ بنانا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی، ۔
لیکن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مذاکرات میں طے پانے والے مسودے سے پیچھے ہٹ گئے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور پاکستان کو کسی صورت لاچار نہیں ہونے دیا جائے گا۔





