نیپال اور چین کے علاقے تبت کی سرحد پر مٹی اور چٹانیں دریا میں گرنے کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 157 افراد ہلاک اور380 سے زائد سیاح لاپتہ ہو گئے۔
غیر ملکی خب ایجنسی کے مطابق نیپال اور چین کے سرحدی علاقے میں سیلاب کی ویڈیوز میں درجنوں افراد کو سرحد پر سیلابی ریلے میں بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے حکام نے ہلاکتوں میں اضافے اور بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
نیپال میں کئی مکانات، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں جبکہ دوسری جانب تبت کے حکام نے بتایا ہے کہ سرحدی گزرگاہ پر مٹی کا تودہ گرنے کے بعد ‘گیرونگ’ کاؤنٹی میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ہے۔
چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مٹی کا تودہ نیپالی سرحد کی جانب گرا جس نے گیرونگ پورٹ کو متاثر کیا اور سرحدی علاقے میں سڑکوں، مواصلات اور بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔
نیپال کی ٹورازم اتھارٹی کے مطابق متاثرہ علاقے میں کم از کم 384 سیاح لاپتہ ہوئے جن میں 105 بھارتی، 93 نیپالی، 12 برطانوی اور 3 امریکی شہری شامل ہیں۔
جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی ‘یونہاپ’ کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق نیپال میں ان کے بھی 8 شہری لاپتہ ہوئے جبکہ نیپالی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ سیلاب کے بعد اب تک مجموعی طور پر 157 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
نیپال اور تبت کی سرحد پر چین کی جانب ریکارڈ ہونے والی سکیورٹی فوٹیج میں متعدد افراد کو چٹانوں، مٹی اور پانی کے ایک خوفناک اور اونچے ریلے سے قبل جان بچا کر بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، اس ہولناک ریلے نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارتوں، گاڑیوں اور کئی افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔





