وفاق کو نتائج کی دھمکیاں دینے والے خیبرپختونخوا کے اہم سیاسی رہنما اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہد خٹک نے گرفتاری کے خوف سے روپوش اختیار کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبے میں آئینی ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کے خدشات بڑھ گئے تھے، جس کے باعث انہوں نے خود کو منظرِ عام سے ہٹا لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہد خٹک پچھلے کچھ عرصے سے وفاقی حکومت کو سخت لہجے میں دھمکیاں دے رہے تھے اور وفاقی کنٹرول سنبھالنے پر نتائج بھگتنے کے حوالے سے متنبہ کر رہے تھے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو صوبائی معاملات میں مداخلت سے باز رہنے کے لیے سخت بیانات دیے تھے جس سے صوبے میں تناؤ پیدا ہوا تھا۔ ان کے یہ بیانات وفاق کے ساتھ محاذ آرائی اور امن و امان کے حوالے سے تشویش کا باعث بنے تھے۔
صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد اب تمام انتظامی اختیارات وفاق کے پاس آ چکے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق شاہد خٹک کے بیانات کو وفاق کے خلاف جارحانہ سمجھا جا رہا تھا اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے مختلف مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں شاہد خٹک نے ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے خاموشی سے روپوش ہو گئے ہیں اور ان کے قریبی ساتھی بھی ان سے رابطہ قائم کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔





