واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہیں اور ان کی موت نہیں ہوئی۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر جسم کے بائیں جانب بہت شدید زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای کی موت واقع ہوچکی ہے تو ایرانی حکام بہت اچھا ڈرامہ کررہے ہیں، کیونکہ ایرانی حکام ہر معاملے میں حتمی منظوری کے لیے سپریم لیڈر سے دوبارہ بات کرنے کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی حملوں کے پہلے روز سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے انہیں عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف امریکا کا عسکری اور اقتصادی دباؤ مؤثر ثابت ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات ایک بہت بڑی کامیابی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور امریکا بہت جلد بڑی کامیابی حاصل کرنے والا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی
ایرانی مذاکرات کاروں کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ وہ انہیں زیادہ قابلِ اعتماد گروہ نہیں سمجھتے، تاہم اس معاملے میں کچھ بھی ممکن ہے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اہم بحری گزرگاہ اب مکمل طور پر کھلی ہے۔ ان کے مطابق امریکا اس راستے سے بڑی تعداد میں بحری جہاز گزار رہا ہے جبکہ تمام بارودی سرنگیں بھی ختم کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے رواں ہفتے ایران کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی مہم کا اعلان کیا ہے۔ امریکا نے ان ممالک کو بھی اقتصادی نتائج بھگتنے کی تنبیہ کی ہے جو ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرنے سے انکار کریں گے۔





