خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے اقتدار کا سورج غروب ہوتے ہی پارٹی کی رہنما ثریا بی بی بھی یکایک منظرِ عام سے غائب ہو گئی ہیں۔
صوبے میں پی ٹی آئی کی طویل حکمرانی کے خاتمے کے فوراً بعد جن دیگر رہنماؤں نے قانونی گرفت کے خوف سے روپوشی اختیار کی، ان میں ثریا بی بی بھی شامل ہیں۔
موصوفہ کو بخوبی اندازہ ہے کہ آئندہ دنوں میں ماضی کے تمام اقدامات اور فیصلوں کی چھان بین ہوگی اور انہیں قانون کی عدالت میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں : احتساب کے خوف سے مینا خان آفریدی کا ڈرامائی فرار، قانون کو چکمہ دینے کی آخری کوشش بھی ناکام
اس احتساب اور قانونی چارہ جوئی کی گرفت سے فرار حاصل کرنے کے لیے انہوں نے روپوشی اور خود ساختہ اغواء کا ڈرامہ رچایا ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے حامی عوام کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ثریا بی بی کو “نامعلوم افراد” لے گئے ہیں، جبکہ بنیادی حقائق بالکل واضح ہیں کہ وہ خود ہی گرفتاری سے بچنے کے لیے کسی محفوظ پناہ گاہ میں چلی گئی ہیں۔
روپوش ہونے سے قبل گاڑیوں کو لاوارث حالت میں چھوڑنے اور فائرنگ کے فرضی واقعات کو پیش کر کے ہمدردی کی لہر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے تا کہ قانونی کارروائیوں پر اثر انداز ہوا جا سکے۔





