پشاور: خيبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کے دوران مساجد میں سولر پلیٹوں اور متعلقہ سسٹم کی تنصیب کے پروجیکٹ میں کرپشن کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی اس انتشاری تحریک اور ان کے پیدا کردہ انتشاری ٹولے نے اپنے دورِ اقتدار میں عبادات گاہوں اور مساجد کو بھی مبینہ بدعنوانی سے نہ بخشا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مساجد کی سولرائزیشن پروجیکٹ کے کل سات پیکیجز تیار کیے گئے تھے اور ان تمام پیکیجوں میں کامیاب قرار دی جانے والی بولیاں سرکاری تخمینے سے کہیں زیادہ پائی گئیں۔
حیران کن طور پر جو کمپنیاں ابتدائی جانچ یعنی پری کوالیفکیشن کے مرحلے میں ناکام ہو چکی تھیں، ان میں سے دو کمپنیوں کو بعد میں ٹینڈر کے عمل میں شامل کر کے غیر قانونی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
انہی من مانیوں، بدانتظامی اور مسلسل انتشار کا نتیجہ تھا کہ کچھ دن پہلے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ دیکھنے میں آیا تاکہ صوبے کو معاشی و انتظامی تباہی سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ
آڈٹ دستاویزات کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے تحت 2 ہزار 490 مساجد کی سولرائزیشن کے لیے منظور کیے گئے ساتوں پیکیجوں میں کامیاب بولیاں سرکاری تخمینے سے 7.98 فیصد سے لے کر 10.99 فیصد تک زائد رہیں، جس کے باعث قومی خزانے پر 50 کروڑ روپے سے زائد کا اضافی اور ناجائز مالی بوجھ ڈالا گیا۔
آڈٹ رپورٹ میں فی سولر یونٹ لاگت کے تعین پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں سرکاری تخمینے اور این آر ٹی سی کے سابقہ منصوبے کی فی یونٹ لاگت میں تقریباً ایک لاکھ چھپن ہزار روپے کا نمایاں فرق سامنے آیا۔
دستاویزات کے مطابق این آر ٹی سی کے ساتھ سابقہ معاہدے میں مسلسل تاخیر پر ادارے پر تقریباً 58 کروڑ 60 لاکھ روپے کا جرمانہ بنتا تھا، لیکن جرمانہ عائد کرنے اور رقم وصول کرنے کے بجائے اسی ادارے کو مزید 500 مساجد کی سولرائزیشن کا نیا ٹھیکہ سونپ دیا گیا جس پر 41 کروڑ 91 لاکھ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ انتشاری ٹولے کے اس طرزِ حکومت پر آڈٹ حکام نے سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 3 ہزار روپے سستا ہوگیا
دوسری جانب پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ اس منصوبے میں تمام قانونی تقاضوں اور شفافیت کو مکمل طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔
پیڈو کا کہنا ہے کہ تمام بولیوں کی جانچ مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت ہی کی گئی ہے اور کسی بھی فرم کو غیر قانونی فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔
ترجمان پیڈو کے مطابق منصوبے میں تاخیر کی بنیادی وجوہات فنڈز کی بروقت عدم دستیابی اور دیگر انتظامی مسائل تھے، جبکہ حکومت کا مجموعی طور پر صوبے کی 7500 مساجد کو سولر پر منتقل کرنے کا ہدف ہے۔





