سوات: سابق پی ٹی آئی ایم پی اے اور رہنما تحریک انصاف عزیز اللہ گران نے سوات میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے متعدد الزامات عائد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت متعلقہ حکام سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عزیز اللہ گران نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی انہیں موقع دیں تو وہ کرپشن سے متعلق درجنوں شواہد پیش کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات میں کرپشن کا بازار گرم ہے اور وہ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو درخواستیں بھی دے چکے ہیں۔
سابق رکن صوبائی اسمبلی کے مطابق انہوں نے ڈپٹی کمشنر سوات اور سوات سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو بھی درخواستیں دی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوات کے خزانے سے ارکان اسمبلی کے لیے مختص 35 کروڑ روپے خرچ ہوئے، تاہم متعلقہ ارکان اس معاملے پر خاموش ہیں۔
عزیز اللہ گران نے بعض سرکاری افسران کے خلاف بھی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف سخت انکوائری ہونی چاہیے۔ انہوں نے اکاؤنٹنٹ جنرل، وزیراعلیٰ اور چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں اساتذہ کیلئے نئی ہدایات، اسکول اوقات میں محکمہ تعلیم کے دفاتر جانے پر پابندی
انہوں نے ٹی ایم ایز کے حوالے سے بھی مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض ترقیاتی کام مختلف محکموں کے ذریعے ایک سے زائد مرتبہ اپنے کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ان الزامات سے متعلق شواہد موجود ہیں اور وہ آئندہ تفصیلی انٹرویو میں مزید تفصیلات سامنے لائیں گے۔
عزیز اللہ گران نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹی ایم ایز کے لیے 40 کروڑ روپے جاری کیے گئے اور اس معاملے میں مبینہ طور پر مالی بے ضابطگی ہوئی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
سابق پی ٹی آئی رہنما نے ڈپٹی کمشنر سوات سے بھی مطالبہ کیا کہ ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد کا جائزہ لیا جائے اور مبینہ کرپشن کے معاملات کی تحقیقات کی جائیں۔
عزیز اللہ گران نے کہا کہ وہ متعلقہ حکام کے سامنے مبینہ کرپشن سے متاثرہ افراد اور ٹھیکیداروں کو بھی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس موجود مبینہ شواہد کی بنیاد پر وہ معاملے کو متعلقہ فورمز کے سامنے اٹھائیں گے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔





