عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سیکرٹری خارجہ امور سردار حسین بابک نے خیبر پختونخوا میں شعبہ معدنیات میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی اعلیٰ سطح تحقیقات کروانے اور تمام حقائق عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معدنیات کا شعبہ صوبے کی آمدن کا ایک بڑا اور اہم ترین ذریعہ ہےمگر ناقص انتظامی حکمتِ عملی اور مالی بے ضابطگیوں نے اسے شدید نقصان پہنچایا ہے لہٰذا خیبر پختونخوا کو لوٹنے والوں سے پائی پائی کا حساب لیا جانا چاہیے۔
سردار حسین بابک کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی بلاامتیاز اور شفاف احتساب پر کامل یقین رکھتی ہے، اور موجودہ حالات میں حکمرانوں کو خود آگے بڑھ کر اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرنا چاہیے۔
انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی دہشت گردی نے صوبے کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا کر خیبر پختونخوا کو شدید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا ہےجس کی وجہ سے آج صوبے کا ہر شعبہ مکمل زبوں حالی کا شکار ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کے لیے اضطراری بنیادوں پر بڑے پیمانے کی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
اے این پی کے رہنما نے نوجوانوں کے مستقبل اور صوبائی ترقی پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ نوجوان نسل کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے تعلیم، ہنر، روزگار اور بلا سود قرضوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود پر سرمایہ کاری کرے کیونکہ اسی سے مثبت اور دور رس نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان کا اصلی چہرہ فاش! 26ویں ترمیم کی حمایت مفت نہیں تھی، ملک ریاض سے 5 ارب اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں اینٹھنے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی!
ترقیاتی کاموں سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روایتی ٹھیکیداری نظام کی مکمل حوصلہ شکنی کی جائے، مقامی کمیونٹی کو اعتماد میں لیا جائے اور عوامی مشاورت سے فیصلہ سازی کی جائے تاکہ صوبے میں موجود ترقی کے بے شمار مواقع سے عوامی مفاد میں بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔





