فضل الرحمان کا اصلی چہرہ فاش! 26ویں ترمیم کی حمایت مفت نہیں تھی، ملک ریاض سے 5 ارب اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں اینٹھنے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی!

26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت اپوزیشن صفوں میں ہونے والے اچانک یو ٹرن کے پیچھے چھپا سب سے بڑا سیاسی راز فاش ہو گیا ہے ۔

مستند ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بظاہر مخالفت کا ناٹک رچا کر پسِ پردہ نامور ٹائیکون ملک ریاض سے اربوں روپے کی جائیدادوں کا مبینہ سودا کیا تھا۔

ابتدائی طور پر آئینی ترمیم کے سخت مخالف رہنے والے مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اچانک حامی بھرنے کے اس فیصلے پر شروع سے سوالات اٹھ رہے تھے تاہم اب ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ملک ریاض نے دبئی میں مولانا فضل الرحمٰن کو مبینہ طور پر 5 ارب روپے فراہم کیے۔

اس بھاری رقم سے اسلام آباد میں ایک پرتعیش رہائش گاہ اور لاہور کے مضافات میں ایک وسیع مدرسے کے لیے اراضی خریدی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : اب ہر جگہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، حکومت نے بڑا اعلان کر دیا

ذرائع کے مطابق اس مک مکا کا دائرہ کار یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ ملک ریاض نے 26 ویں ترمیم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی مولانا فضل الرحمٰن کو متعدد قیمتی پراپرٹیز سے نوازا ہے جن کی اندرونی تفصیلات اور دستاویزات اب بہت جلد منظرِ عام پر لائی جا رہی ہیں۔

Scroll to Top