گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کا ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے صنعتی شعبے کو درپیش سنگین مسائل، امن و امان کے خدشات اور زیر التوا منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مشیر صنعت محمد ارشاد اور سیکرٹری صنعت سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔بریفنگ میں بتایاگیا کہ صوبے میں اس وقت 15 اکنامک زونز فعال ہیں جبکہ 7 مزید زونز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جن کے ذریعے اب تک تقریباً ایک لاکھ سات ہزار روزگار کے مواقع پیدا کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں گورنر فیصل کریم کنڈی کو یکہ غنڈ ماربل سٹی، کاٹلنگ اور دیگر مجوزہ اکنامک زونز کے انتظامی و مالیاتی مسائل سمیت زمینوں کی خریداری اور ادائیگیوں میں حائل دلدل سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے ہدایت کی کہ زمینوں کی خریداریاں اور معطل ادائیگیوں کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے محکمہ خزانہ کے ساتھ فوری مشترکہ بیٹھک کی جائے اور قابلِ عمل تجاویز پیش کی جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں صنعتی ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے لیے روایتی کاغذی کارروائی کے بجائے جامع اور عملی حکمتِ عملی کے تحت نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہوگا اورایز آف ڈوئنگ بزنس پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کے لیے کاغذی پیچیدگیاں ختم کر کے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے امن و امان اور سیکیورٹی کی سنگین صورتحال کے باعث معطل اور متاثر ہونے والے اکنامک زونز کا خاص طور پر نوٹس لیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ حساس اور امن و امان سے متاثرہ علاقوں میں واقع زونز کی فعالیت کے لیے سیکیورٹی خدشات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ معاشی پہیہ رکنے نہ پائے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی دور میں معدنیات کرپشن کی تحقیقات کی جائیں: سردار حسین بابک
انہوں نے وفاقی و صوبائی محکموں کے ساتھ فوری مشترکہ اجلاس طلب کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تاکید کی کہ وفاق سے متعلق تمام قانونی، مالیاتی اور سیکیورٹی امور کو اسلام آباد کی سطح پر اٹھا کر بلا تاخیر حل یقینی بنایا جائے۔





