پشاور: خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 13 سالہ تاریک اور سیاہ دورِ اقتدار کا ایک اور سنگین مالیاتی اسکینڈل منظرِ عام پر آ گیا ہے، جس میں معدنیات (مینرلز) کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن، لوٹ مار اور صوبائی وسائل پر ڈاکے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔
سرکاری آڈٹ رپورٹ نے پی ٹی آئی حکومت کے شفافیت اور احتساب کے کھوکھلے دعوؤں کا پول کھولتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ محض کوئی عام انتظامی غفلت نہیں بلکہ حکومت اور لینڈ مافیا کا منظم اور منصوبہ بند کرپشن کا نیٹ ورک تھا، جس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کے قومی خزانے کو صرف ایک سال کے مختصر عرصے میں 16 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا گیا۔
محکمہ آڈٹ کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی اعلیٰ سطحی سرپرستی، چشم پوشی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ کے تحت صرف سال 2022ء اور 2023ء کے دوران صوبے بھر میں غیر قانونی کان کنی (Illegal Mining) کی کھلی چھوٹ دی گئی، جس کے ذریعے 8 ارب روپے سے زائد کے قدرتی وسائل اور معدنیات لوٹ لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : تھری ایم پی او کے تحت مولانا نسیم علی شاہ کے خلاف کارروائی، سینٹرل جیل ہری پور منتقل
آڈٹ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سابق حکمرانوں کی من پسند اور نادہندہ ٹھیکے داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے واجبات جان بوجھ کر وصول ہی نہیں کیے گئے، جو اس بات کا جیوتا ثبوت ہے کہ اس کرپشن اور ڈکیتی کو براہِ راست سرکاری اور سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔
رپورٹ کے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق صوبے کے دفاعی اور انتظامی ڈھانچے یعنی چیک پوسٹوں، انسپکٹرز اور محکمہ معدنیات کی بھاری نفری کی موجودگی کے باوجود غیر قانونی مائننگ کا ننگا ناچ پورے خیبرپختونخوا میں بلا خوف و خطر جاری رہا۔
اس ادارہ جاتی نالائقی اور ملی بھگت سے مزید 3 ارب 8 کروڑ روپے صوبائی خزانے سے اینٹھ لیے گئے۔ علاوہ ازیں، عوامی مفاد کے بنیادی منصوبوں جیسے شاہراہوں اور اسمال ڈیمز (چھوٹے ڈیموں) کی تعمیر کا بہانہ بنا کر بجری اور ریت کی غیر قانونی اور بے دردی سے کٹائی کی گئی، جس سے 3 ارب 7 کروڑ روپے کے قومی وسائل ہڑپ کر لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد: بلدیاتی انتخابات کا انتخابی شیڈول آج ہی جاری کرنے کا باقاعدہ اعلان
سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آڈٹ رپورٹ کے یہ ہوش ربا اعداد و شمار اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ تحریکِ انتشار نے خیبرپختونخوا پر 13 سال تک اقتدار کے نام پر مسلط رہ کر صوبے کے قدرتی اور معدنی وسائل کو بے دردی سے لوٹا اور عوام کے پیسوں پر اپنے من پسند مافیاز کو پالتی رہی۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ اس سنگین مالیاتی ڈاکے اور منظم کرپشن میں ملوث سابق وزراء، بیوروکریٹس اور ٹھیکے داروں کا فوری احتساب کیا جائے اور لوٹی گئی رقم صوبائی خزانے میں واپس لائی جائے۔





