اسلام کا نام، لوٹ مار کا کام، فضل الرحمان کے ریاست دشمن بیانات ان کے سیاہ کارناموں پر پردہ نہیں ڈال سکتے، فرح عظیم شاہ

کوئٹہ: رکن بلوچستان اسمبلی فرح عظیم شاہ نے ملک دشمن پروپیگنڈے اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے والی کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے اندرونی و بیرونی سطح پر زہریلا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جبکہ فضل الرحمان کے بیانات اور بے بنیاد الزام تراشی انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔

 فرح عظیم شاہ نے واضح کیا کہ فضل الرحمان جیسے سیاستدانوں کو ملک دشمن عناصر کی زبان بولنے، غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے مکمل گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ وقت ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے ریاست کو نشانہ بنانے کا نہیں ہے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرح عظیم شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ جب بھی پاکستان کامیابیوں کی جانب پیش قدمی کرتا ہے اور عالمی سطح پر اونچی اڑان بھرتا ہے تو دشمن عناصر اور ان کے آلہ کار فوری طور پر سرگرم ہو جاتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ دشمن پاکستان کی ان دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کو ہضم نہیں کر پا رہے، جن کے باعث آج ملک تمام چیلنجز کے باوجود دفاعی صلاحیت اور سفارتی میدان سمیت مختلف اہم شعبوں میں کامیابیوں کا سفر تیزی سے طے کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور بقا ہمارے لیے سب سے مقدم ہے اور امن کے قیام کے لیے ریاست کے کردار کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : لوٹ مار کی تمام حدیں پار، تحریکِ انتشار کے دورِ اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن بے نقاب

 موجودہ نازک حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفادات کو ترجیح دی جائے اور فضل الرحمان سمیت تمام سیاسی قیادت کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرتے ہوئے ملکی استحکام کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

 یہ وقت قوم کے اتحاد اور یکجہتی کا ہے، اور ہمیں اپنے شہدا اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے جن کی قربانیوں کی بدولت ہی ملک کا دفاع اور امن قائم ہے۔

رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ عارضی ہے اور ان شاء اللہ یہ جلد ختم ہو جائے گا، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہر مرحلے پر ہمیشہ صرف ریاست اور قومی یکجہتی کی بات کی ہے۔

 انہوں نے تمام مکاتب فکر پر زور دیا کہ پاکستان کی سلامتی، قومی اتحاد اور ریاستی مفادات کو سرفہرست رکھتے ہوئے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے اور ریاست مخالف بیانیے کو مکمل طور پر رد کیا جائے۔

Scroll to Top