دیر کالونی میں 15 اکتوبر کو نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش واقعے کے بعد خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایس آر اے) نے آئندہ ایسےحادثات سے بچاؤ کے لیے قانون میں بنیادی ترامیم کی سفارشات تیار کر لی ہیں۔
اس سلسلے میں اتھارٹی نے اپنی ابتدائی تفصیلی رپورٹ گورنر خیبرپختونخوا کو بھیج دی ہے۔
جمع کرائی گئی رپورٹ میں پی ایس آر اے نے تجویز دی ہے کہ بچوں کی حفاظتی تدابیر میں غفلت برتنے یا غیر محفوظ عمارات میں قائم اسکولوں کے خلاف سخت اقدام اٹھاتے ہوئے اتھارٹی کو انہیں فوری طور پر سیل اور بند کرنے کا مکمل اختیار دیا جائے۔
نئی سفارشات کے تحت اب نجی اسکولوں کی رجسٹریشن کے لیے محض کاغذی کارروائی کافی نہیں ہوگی، بلکہ متعلقہ ٹی ایم ایز اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے باقاعدہ این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیلابی نالیوں یا حساس علاقوں میں واقع اسکولوں کے لیے محکمہ آبپاشی کا این او سی بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اپیکس کمیٹی اجلاس میں دہشتگردوں کے سہولتکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ
رپورٹ میں اس بات کی بھی سفارش کی گئی ہے کہ تمام نجی اسکولوں کی عمارتوں کا مکمل تکنیکی اور ڈھانچاتی معائنہ محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) یا تسلیم شدہ انجینئرنگ اداروں کے ذریعے کروایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرناک عمارت کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔





