مشیرِ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلورنے ضلع کرک میں دہشت گردوں کے خلاف سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین خان، سب انسپکٹر افضل اعوان، کانسٹیبل کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار امجد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ثمر ہارون بلور نے شہدا کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں نے اپنے خون سے امن کی تاریخ رقم کی ہے۔
اپنے خصوصی تعزیتی بیان میں ثمر ہارون بلورنے کہا کہ ڈی ایس پی عمران الدین اور ان کے ساتھیوں کی شہادت انتہائی المناک ہے مگر شہدا نے عوام کے تحفظ اور فرض شناسی کی جو روشن مثال قائم کی ہے اس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
مشیر اطلاعات نے زور دے کر کہا کہ فورسز کی یہ عظیم قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہمارے غیر متزلزل عزم کی عکاس ہیں۔
انہوں نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی اور اس عزم کو دہرایا کہ ثمر ہارون بلور اور صوبائی انتظامیہ شہدا کے خون کا ایک ایک قطرہ نصابِ امن بنائیں گے اور اسے رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
ثمر بلور نے صوبے کی موجودہ حالتِ زار پر بات کرتے ہوئے نشان دہی کی کہ خیبرپختونخوا کو درپیش بدامنی کی موجودہ لہر سابقہ پی ٹی آئی حکومت کی شدید نااہلی، عدم توجہی اور ناقص حکمت عملی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
پی ٹی آئی کے گزشتہ دورِ حکومت میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور انسدادِ دہشت گردی کی تدابیر کو نظرانداز کیا گیا۔
مشیر اطلاعات کے مطابق سابقہ حکمرانوں کی اسی سیاسی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے شرپسند عناصر کو صوبے میں دوبارہ پاؤں پھیلانے کا موقع ملا جس کا خمیازہ آج عوام اور فورسز کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : علی امین گنڈاپور کو اصل خطرہ اپنی جماعت کے اندرونی اختلافات سے ہے، ثمر بلور
ثمر ہارون بلور کے واضح مؤقف اور موجودہ انتظامیہ کی سخت زیرو ٹالرنس پالیسی کی بدولت فورسز کے مورال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
کرک میں کیا جانے والا حالیہ کامیاب آپریشن ثمر ہارون بلور اور موجودہ انتظامیہ کی اسی ٹھوس حکمتِ عملی کا ثبوت ہے جس کے تحت سیکیورٹی ادارے اب دفاعی کے بجائے جارحانہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے صوبے کو امن و امان کا گہوارہ بنانے کے لیے متحرک ہیں۔





