وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں بچوں کے لیے ماڈل چائلڈکورٹ اور انٹرایکٹو ریسورس سینٹر کا افتتاح

دارالحکومت اسلام آباد میں بچوں کے حقوق ان کے تحفظ اور بہترین مفادات کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک تاریخی اور منفرد پیش رفت سامنے آئی ہے۔

اسلام آباد وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں بچوں کے لیے ایک جدید ماڈل چائلڈ کورٹ اور انٹرایکٹو ریسورس سینٹر قائم کر کے اس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد عدالتوں میں بچوں کے ساتھ دوستانہ، خوف سے پاک اور شفقت پر مبنی عدالتی طریقہ کار متعارف کروانا ہے۔

یہ جدید مرکز وفاقی جوڈیشل اکیڈمی اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف اور گروپ ڈیولپمنٹ پاکستان کے باہمی اور مشترکہ تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔ یہ شراکت داری پاکستان کے قانونی و عدالتی نظام میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

اس جدید چائلڈکورٹ اور ریسورس سینٹر کے قیام سے یونیسیف کے “بچوں کے لیے نظامِ انصاف کی ازسرِنو تشکیل”  کے پروگرام کو عملًا آگے بڑھایا جائے گا۔ اس کے تحت عدالتی کارروائی کے دوران بچوں کو روایتی عدالتی خوف اور دباؤ سے آزاد ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ ان کی ذہنی و نفسیاتی صحت پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معزز جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس اقدام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ بچوں کو ان کی ضروریات کے مطابق انصاف فراہم کرنا نہ صرف ریاست اور عدالتوں کی آئینی ذمہ داری ہے بلکہ ایک بنیادی اخلاقی فرض بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ننھے ہاتھ کتابوں کے بجائے اوزار اٹھانے پر مجبور، خیبرپختونخوا میں چائلڈ لیبر کا بڑا انکشاف

سماجی و قانونی ماہرین نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ گورننس اور عدالتی اصلاحات کے دور میں ماڈل چائلڈ کورٹ کا قیام بچوں سے متعلق مقدمات کو جلد اور حساس طریقے سے نمٹانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

یہ اقدام نہ صرف آئندہ کے لیے عدالتی طریقہ کار میں انقلابی تبدیلی لائے گا بلکہ پاکستان کے انسانی حقوق اور انصاف کے گراف کو عالمی برادری کے سامنے مزید باوقار بنائے گا۔

Scroll to Top