آڈیو لیکس کیس،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت منرلز ایسوسی ایشن کا مشاورتی اجلاس

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت منرلز ایسوسی ایشن کے وفد کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے مسودے پر مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی، متعلقہ کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

وفد کی قیادت منرلز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صدر افسر محمد کر رہے تھے۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے وفد کو مجوزہ ایکٹ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ مشاورتی اجلاس میں منرل ایسوسی ایشن کے تحفظات کو دور کیا گیا اور ان کے تمام سوالات کا تسلی بخش جواب دیا گیا۔

وفد نے اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجوزہ ایکٹ کو صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے مشاورت کرنا ایک احسن اقدام ہے۔ وفد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایکٹ کی منظوری کے بعد رولز بنانے کے عمل میں منرل ایسوسی ایشن کو شامل کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس موقع پر کہا کہ “مجوزہ ایکٹ کا مقصد صوبے کے قیمتی معدنی وسائل کا تحفظ اور مؤثر استعمال یقینی بنانا ہے۔ یہ ایکٹ صوبائی حکومت کا اپنا قانون ہے اور ضرورت پڑنے پر اس میں ترامیم کی جا سکتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اس ایکٹ سے قانونی کان کنی کی حوصلہ افزائی ہو گی جبکہ غیر قانونی کان کنی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ نئے قانون سے صوبے کے معدنی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معدنیات کے حوالے سے صوبائی حکومت اور صوبے کے لوگوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ معدنیات ہمارے قیمتی اثاثے اور آنے والی نسلوں کی امانت ہیں، ان کے دانشمندانہ استعمال کی ضرورت ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ خام معدنیات کو اونے پونے داموں فروخت کرنے کی بجائے صوبے میں ان کی ویلیو ایڈیشن کی جائے، اس سے صوبائی حکومت کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔

یہ بھی پڑھیں خیبر پختونخوا کے پن بجلی کے بقایاجات: وزیر اعلیٰ نے وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کر دیا

وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معدنیات سے متعلق قانون کو ملکی قانون سے ہم آہنگ کیا جائے گا، تاہم صوبائی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Scroll to Top