نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے ادارے ملالہ فنڈ نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ افغان لڑکیوں اور خواتین کی ملک بدری فوری طور پر بند کرے۔
ملالہ فنڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت پاکستان افغان مہاجرین اور طویل عرصے سے پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی ملک بدری کی پالیسی کو فوری طور پر روکے، جس سے افغان خواتین اور لڑکیوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔
انسٹاگرام پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں ملالہ فنڈ نے کہا کہ افغان لڑکیوں اور خواتین کو ملک بدر کرنا انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ یہ وہ خواتین ہیں جو طالبان کے ظلم و ستم کا سامنا کر رہی ہیں اور پاکستان میں پناہ گزین ہیں۔
تنظیم نے اس عمل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہوگا بلکہ اس سے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی بھی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی ایک روزہ دورے پر اپنے آبائی گاؤں پہنچ گئیں
ملالہ فنڈ نے بین الاقوامی برادری، مختلف حکومتوں، فاؤنڈیشنز، سول سوسائٹی اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بے گھر ہونے والے افغان شہریوں کی مدد کریں اور ان کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کریں۔
یاد رہے کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں افغان شہریوں کی ملک بدری کے حوالے سے نئی پالیسی نافذ کی تھی، جس کے بعد افغان مہاجرین میں بے چینی پھیل گئی ہے۔





