پشاور (اعجاز آفریدی. پختون انویسٹیگیشن ٹیم) خیبرپختونخوا حکومت نے مالاکنڈ انفراسٹرکچر پراجیکٹ کے لیے سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ سے حاصل کیے جانے والے 72 ملین امریکی ڈالر کے قرض میں سے 30 ملین ڈالر کا قرض منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس قرض کو گرانٹ میں تبدیل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھائے۔
ذرائع کے مطابق، سعودی حکومت نے وفاقی حکومت کی گارنٹی پر خیبرپختونخوا کے مالاکنڈ ریجن کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 72 ملین امریکی ڈالر، یعنی 27 کروڑ سعودی ریال فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ قرض 2 فیصد منافع پر فراہم کیا جا رہا تھا، جس کی کلوزنگ ڈیٹ دسمبر 2024 تھی، تاہم اب اسے بڑھا کر دسمبر 2027 کر دیا گیا ہے۔
سیکرٹری ریلیف خیبرپختونخوا نے اس معاملے کو صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ فنانس ڈویژن حکومت پاکستان نے 42 ملین ڈالر بطور گرانٹ صوبائی حکومت کو منتقل کر دیے ہیں، جبکہ بقیہ 30 ملین ڈالر کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے 21 جولائی 2022 کو ایک سمری کے ذریعے سابق قبائلی اضلاع کے لیے منظور کیا تھا۔ تاہم وفاقی حکومت نے بقیہ رقم گرانٹ کے طور پر دینے سے انکار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق موجودہ صوبائی کابینہ نے اپنے 28 مارچ 2024 کے اجلاس میں سعودی فنڈ سے 30 ملین ڈالر قرض لینے کی منظوری دی تھی، مگر بعد ازاں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ کی صدارت میں محکمہ ریلیف کے فارن لون پورٹ فولیو کے جائزے کے دوران تجویز دی گئی کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
سیکرٹری ریلیف نے کابینہ سے درخواست کی کہ وہ پہلے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے قرض کو منسوخ کرے اور محکمہ خزانہ کو وفاقی حکومت سے رابطے کا اختیار دے تاکہ قرض کو گرانٹ میں تبدیل کرایا جا سکے۔
کابینہ نے اس تجویز کو منظور کرتے ہوئے قرض کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر وفاقی حکومت 30 ملین ڈالر گرانٹ کے طور پر فراہم نہیں کرتی تو خیبرپختونخوا حکومت یہ منصوبہ اپنی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مکمل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
فنڈز کی کمی کے باعث مالاکنڈ انفراسٹرکچر پراجیکٹ کے تحت شامل کئی اہم منصوبے پہلے ہی تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔





