این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کے بغیر صوبائی ترقی ممکن نہیں، حکام کا دو ٹوک مؤقف

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ پر جلد از جلد نظرثانی کی جائے تاکہ صوبے کو اس کے جائز مالی حقوق مل سکیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر خزانہ، وزیر آبی وسائل، اور متعلقہ وفاقی سیکریٹریز نے شرکت کی۔

اجلاس میں پن بجلی منافع کے بقایاجات، این ایف سی ایوارڈ، اور ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی جیسے اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ سابقہ قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام تو ہو چکا ہے، مگر اب تک مالی انضمام مکمل نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ آبادی کے تناسب سے خیبر پختونخوا کا این ایف سی میں حصہ 19.46 فیصد بنتا ہے، تاہم موجودہ مالی صورتحال میں صوبہ اپنے ترقیاتی اہداف پورے کرنے سے قاصر ہے۔

علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ ہم نہ کوئی غیر قانونی مطالبہ کر رہے ہیں، نہ ہی کچھ اضافی مانگ رہے ہیں۔ ہم صرف اپنے آئینی اور جائز حق کی بات کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں خیبرپختونخوا حکومت کا مالاکنڈ انفراسٹرکچر منصوبے کے لیے 30 ملین ڈالر قرض منسوخ کرنے کا فیصلہ

اس موقع پر صوبائی قیادت نے اے آئی پی پروگرام کے لیے وفاق کی طرف سے کمیٹی کی تشکیل کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرح کے اقدامات صوبائی خودمختاری کے اصولوں سے متصادم ہیں۔

وفاقی حکام نے ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی یقین دہانی کرائی، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے زور دیا کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کے لیے جلد اجلاس طلب کرے۔

Scroll to Top