خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس 18 مارچ کو طلب، اعلامیہ جاری

خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس، پیکا ایکٹ سے متعلق منظور شدہ قرارداد وفاق کو بھیجنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ کا 31 واں اجلاس وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی متفقہ قرارداد نمبر 132 کو وفاقی حکومت کو ارسال کرنے کی بھی منظوری دے دی۔ اس قرارداد میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) میں مجوزہ ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے آزادیٔ صحافت کی بھرپور حمایت کی گئی ہے۔

اجلاس میں متعدد اہم قانونی ترامیم، مالی امور اور تقرریوں کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے بعد مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا چیریٹیز ایکٹ 2019 کے سیکشن 12 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو رولز 1968 میں بھی نئی ترامیم کی توثیق کی گئی ہے، جن میں زمین کی حدبندی اور ناجائز قابضین کے انخلاء سے متعلق قواعد شامل کیے گئے ہیں۔
اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے لیے دو نئے ممبران کی تقرری کی منظوری بھی دی گئی، جب کہ خیبرپختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کو 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کے فنڈز تنخواہوں اور آپریشنل اخراجات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
اجلاس میں پشاور بی آر ٹی منصوبے کے لیے ایک ارب روپے کی سبسڈی کی بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہتری اور عوامی سہولیات کو فروغ دینا ہے۔
مزید برآں، سوشل ویلفیئر، سپیشل ایجوکیشن اور ویمن ایمپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے لیے رولز آف بزنس میں بھی ترامیم کی منظوری دی گئی، تاکہ ان شعبہ جات کی کارکردگی کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جا سکے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کابینہ کے یہ فیصلے صوبے کی ترقی، گورننس میں شفافیت اور عوامی فلاح و بہبود کی سمت میں ایک مثبت قدم ہیں۔

Scroll to Top