اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں نئی نہریں بنانے کا منصوبہ مسترد کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں 7 فروری کینال سے متعلق ایکنک کی منظوری کا فیصلہ سی سی آئی نے رد کرتے ہوئے طے کیا کہ جب تک تمام صوبوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے نہیں ہوتا، ملک میں کوئی نئی نہر تعمیر نہیں کی جائے گی۔
اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت کو واپڈا کی جانب سے جاری پانی دستیابی کا سرٹیفکیٹ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے بعد تمام صوبوں کو مساوی طور پر اپنے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبرپختونخوا اپنے صوبے کا پانی کسی دوسرے صوبے کو نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی صوبے کا حق کھانے کی اجازت نہیں دیں گے اور اپنے حصے کا این ایف سی ایوارڈ بھی لیں گے۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ ضم شدہ اضلاع کو ان کا حق دیا جائے گا اور سندھ کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کے پانی سے متعلق دیرینہ مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے حساس معاملے پر اہم پیش رفت دیکھی گئی ہے۔





