اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو وہ کیا کرینگے؟ تو شیرافضل نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا’’میں تو انگلینڈ چلا جاؤں گا۔
تفصیلات کے مطابق بھارت نے ایک بار پھر پاکستان مخالف زہریلے پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہوئے اس بار نشانہ بنایا ہے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق قانونی مشیر، شیر افضل مروت کو، جنہوں نے ایک صحافی کے طنزیہ سوال کا مزاحیہ انداز میں جواب دیا تھا۔
شیر افضل مروت سے جب ایک انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو وہ کیا کریں گے، تو انہوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا’’میں تو انگلینڈ چلا جاؤں گا‘‘ اس کے بعد جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا نریندر مودی کو کشیدگی کم کرنے کے لیے پیچھے ہٹنا چاہیے، تو مروت نے طنزیہ انداز میں جواب دیا’’کیا مودی میری خالہ کا بیٹا ہے جو میرے کہنے پر پیچھے ہٹ جائے گا؟
یہ ہنسی مذاق کا ماحول بھارتی میڈیا اور بی جے پی رہنماؤں کے لیے جیسے ایندھن بن گیا۔ بھارتی چینلز اور حکومتی ترجمانوں نے اس بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا، اور شیر افضل مروت کے طنز کو ’’بزدلی‘‘ اور ’’اعتماد کی کمی‘‘سے تعبیر کرتے ہوئے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کی بارش کر دی۔
بی جے پی کے ترجمان پردیپ بھنڈاری نے الزام لگایا کہ ’’پاکستانی وزراء نے اپنے خاندانوں کے لیے بیرونِ ملک ٹکٹیں بک کروالی ہیں‘‘۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے پہلگام حملے کو بنیاد بنا کر سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا ہے، پاکستانی شہریوں کے ویزے بند کر دیے ہیں، اور اپنی افواج کو ’’کھلی چھوٹ‘‘دے رکھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی رویہ کوئی نیا نہیں جب بھی بھارت میں انتخابات یا داخلی بحران آتا ہے، نئی دہلی اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان مخالف بیانیہ تیار کر لیتی ہے۔ 2019 میں پلوامہ واقعے کے بعد بھی بالاکوٹ حملے کا ڈرامہ رچایا گیا، جس میں نہ ثبوت پیش کیے گئے، نہ نتائج۔
شیر افضل مروت کا طنزیہ جواب دراصل پاکستانی قیادت کی سنجیدگی اور جنگ سے گریز کی حکمتِ عملی کا عکس تھا ایک ایسا ردعمل جو جنگی جنون کے بجائے ہوش، عقل اور امن کی بات کرتا ہے۔ بھارتی میڈیا اور بی جے پی کی یہ بوکھلاہٹ اسی رویے سے پیدا ہوئی ہے، جسے وہ برداشت نہیں کر پا رہے۔





