پاکستان امن چاہتا ہے مگر انصاف اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں، صدر مملکت

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان باہمی احترام اور مشترکہ مقاصد کی بنیاد پر عالمِ اسلام کے ساتھ تعمیری اور مضبوط روابط کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز کے تناظر میں اسلامی دنیا کو اتحاد، فکری رہنمائی اور عملی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بات انہوں نے ایوانِ صدر میں منعقدہ چھٹی بین الاقوامی پیغام اسلام کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سعودی عرب اور فلسطین سمیت مختلف اسلامی ممالک کے سفیروں، مفتی اعظم فلسطین محمد احمد حسین اور ملک بھر کے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔

صدر مملکت نے کانفرنس میں شریک غیر ملکی مہمانوں اور علماء کا خیرمقدم کرتے ہوئے بالخصوص فلسطین کے مفتی اعظم اور سعودی عرب کے نمائندہ مذہبی امور کی شرکت کو سراہا۔ انہوں نے کانفرنس کے منتظمین کی کاوشوں کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : معرکہ حق میں بھارت کو دیا گیا جواب تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، سردار محمد یوسف

اپنے خطاب میں صدر مملکت نے کہا کہ آج عالمِ اسلام کے مختلف خطوں سے علماء اور مذہبی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ایک بڑی کامیابی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ اور دنیا مختلف بحرانوں اور چیلنجز سے گزر رہے ہیں۔

انہوں نے مغربی ایشیا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات اور کشیدگی صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پورے اسلامی خطے کے استحکام، معیشت اور اجتماعی احساسِ تحفظ کو متاثر کرتے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ انتہا پسندی، تشدد اور فرقہ واریت نے معاشروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بیرونی عناصر اسلام کے پرامن تشخص کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں داخلی سطح پر بھی بعض عناصر نفرت اور تقسیم کو فروغ دیتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلام اعتدال، توازن اور انسانیت کا دین ہے۔ ان کے مطابق انسانی جان کا احترام اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول ہے اور قرآن کریم یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک جان کی حفاظت پوری انسانیت کی حفاظت کے مترادف ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ اسلام نے ہمیشہ صبر، برداشت اور امن کی راہ اختیار کرنے کی تلقین کی ہے، اور یہی اصول آج کے دور میں بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے علماء پر زور دیا کہ وہ محض مسائل کی نشاندہی تک محدود نہ رہیں بلکہ معاشرے کو عملی اور فکری رہنمائی بھی فراہم کریں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھا ہے، اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ کسی بھی صورت میں تشدد کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں : معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ: پاکستان امن کا خواہاں، مگر دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاک افواج

صدر نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ امن وہی قابلِ قبول ہے جو انصاف اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا استحکام مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔

خطاب کے دوران صدر مملکت نے فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں استحکام، انسانی ہمدردی اور تعمیری روابط کا حامی رہا ہے، تاہم اپنی قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کو بین الاقوامی معاہدوں خصوصاً دوحہ معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے۔

صدر مملکت نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمِ اسلام کے ساتھ تعاون، امن، ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

Scroll to Top