بھارت کی بزدلانہ کارروائیوں کے بعد پاکستان میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ، شہری دفاع، ریسکیو اداروں اور تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے رات کے اندھیرے میں کی گئی بزدلانہ کارروائیوں کے بعد پاکستان میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔ شہری دفاع، ریسکیو اداروں اور تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر کے تمام اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی حالت میں بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنرز نے پمز، پولی کلینک، سی ڈی اے اسپتال اور دیگر طبی مراکز کے ہنگامی دورے کیے تاکہ سہولیات اور عملے کی تیاری کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس دوران اسپتالوں کے سربراہان کو ہدایت دی گئی کہ ایمرجنسی وارڈز کو مکمل فعال رکھا جائے اور تمام ضروری طبی سہولیات فوری طور پر مہیا کی جائیں۔
ڈی سی اسلام آباد نے واضح کیا کہ موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر تمام اسپتالوں کو ہر ممکن ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا، اور شہریوں کی فوری امداد کو اولین ترجیح دی جائے۔
ادھر گرینڈ ہیلتھ الائنس پنجاب کے چیئرمین ڈاکٹر سلمان حسیب نے اعلان کیا ہے کہ تمام اسپتالوں میں ان ڈور سروسز فوری طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق، بھارت نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملے کرتے ہوئے پاکستان کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا، جس کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شعبہ طب اس وقت افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، اور ہر زخمی کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے گی۔‘‘
ڈاکٹر سلمان نے مزید بتایا کہ بہاولپور، مظفرآباد اور مریدکے میں ینگ ڈاکٹرز کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ وہ موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے سکیں۔ تمام اسپتالوں میں آپریشنز اور ایمرجنسی خدمات مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔
پاکستانی قوم اس وقت متحد ہے، اور دفاعِ وطن کے ہر محاذ پر اعصابی جنگ میں افواج، طبی عملہ اور شہری ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ ملک بھر کے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔





