ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آج ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے چوتھے دور کی منظوری دی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کا آغاز عمانی فریق کی ہم آہنگی کے بعد کیا جائے گا جس کا وقت بھی عمان کے ساتھ مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق عراقچی نے مشہد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی جگہ اور وقت کا تعین ثالث ملک عمان کے ذمے ہے اور ایران نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ مذاکرات آج ہوں گے۔
عراقچی نے مذاکرات میں پیش رفت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فطری طور پر جتنی زیادہ پیش رفت ہوگی، اتنی زیادہ مشاورت اور جائزے کی ضرورت ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور تدریجی طور پر مذاکرات کی تفصیلات میں پیشرفت کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ فریق مقابل سے متضاد پیغامات مل رہے ہیں اور مختلف افراد مختلف نظریات پیش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر کی یوکرین کو براہ راست امن مذاکرات کی پیشکش
عباس عراقچی نے کہا یہ مسائل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی حکومت نے ابھی تک اپنے موقف کو واضح نہیں کیا۔
ایرانی وزیر خزانہ عباس عراقچینے مزید کہا کہ ایران اپنے راستے پر ثابت قدم رہے گا اور جہاں تک ایرانی عوام کے مفادات کا تعلق ہے ایران آگے بڑھے گا۔





