ملک میں سیاسی سیزفائر کی ضرورت ہے، اے پی سی بلا کر عمران خان کو بھی مدعو کیا جائے: صاحبزادہ حامد رضا

اسلام آباد: سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی استحکام کے لیے سیاسی سیزفائر ضروری ہے، اور اس سلسلے میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جائے، جس میں عمران خان کو بھی دعوت دی جانی چاہیے۔

دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران نریندر مودی کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بھارت ابھی باز نہیں آئے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے یہ جنگ قوم کے متحد ہونے کی وجہ سے جیتی۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام کی شدید ضرورت ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جمہوریت میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ان کا قومی سلامتی سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر کارکردگی کو سراہنے پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ “ایکس کھلنے پر نوجوانوں، خاص طور پر پی ٹی آئی کے کارکنان، نے بھرپور انداز میں بھارت کا مؤثر جواب دیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کو کھلا رکھا جائے اور سیاسی انتقام کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنے حالیہ خطاب میں انہوں نے نریندر مودی کا نام تک لینا مناسب نہیں سمجھا، جو کہ ایک اہم موقع پر خاموشی کا مظہر ہے۔

یہ بھی پڑھیں حالیہ دفاعی و سفارتی ناکامیوں کے بعد بھارت سفارتی آداب بھی فراموش کرنے لگا

ایک سوال کے جواب میں صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ وہ عطا تارڑ کی باتوں کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جیل سے جو بیان دیا ہے وہ قوم کے کردار کو خراج تحسین ہے، مگر وزیر اطلاعات اسے غیر متعلقہ قرار دے رہے ہیں، جو افسوسناک ہے۔

Scroll to Top