حکومت پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں مزید اضافے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں مزید اضافے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل ’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق دونوں فریقین نے ابتدائی طور پر 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 100 روپے سے زائد مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جو کہ ملکی محصولات میں اضافے کے لیے ایک بڑا قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
معاشی اصلاحات کے سلسلے میں گاڑیوں کی درآمد پر بھی پالیسی میں بڑی تبدیلی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح نئی گاڑیوں کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہوگی، تاہم یہ فرق ہر سال 10 فیصد کم کیا جائے گا اور 2030 تک مکمل طور پر ختم کیے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے سابقہ فاٹا/پاٹا کے علاقوں کے لیے دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، تاکہ ملک بھر میں ٹیکس نظام کو یکساں بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ کھاد پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی عمومی شرح نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس سے زراعت کے شعبے پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مالی نظم و ضبط قائم کرنا، محصولات میں اضافہ اور آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ نیا مالیاتی پروگرام حاصل کرنا ہے۔





