خیبرپختونخوا حکومت کا ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ 150 ارب روپے تک بڑھانے کا فیصلہ

پشاور(محمداعجازآفریدی) خیبرپختونخواحکومت نے ائندہ مالی سال 2025-26 ءکے بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی اورمالیاتی استحکام لانے کے لئے  ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ 150 ارب روپے تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے ، ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ میں اضافے کا مقصد صوبے کے بڑھتے ہوئے قرضوں کو منظم کرنا اور مالیاتی استحکام حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ سے آئندہ مالی سال کا بجٹ سرپلس رہنے کا بھی امکان ہے جس سے آئی ایم ایف کی جانب سے خیبرپختونخوا کو سرپلس بجٹ دینے کی شرط بھی پوری ہوجائے گی۔
بتایا جاتاہےکہ خیبرپختونخوا حکومت نے ستمبر 2024 ءمیں ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ قائم کیا تھا جس میں ابتدائی طور پر 30 ارب روپے رکھے گئے تھے جس کی منظوری باقاعدہ کابینہ سے لے گئی تھی، یہ اقدام خیبرپختونخواپبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت لیا گیا۔

رواں مالی سال ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ30 ارب روپے سے بڑھ کر 50 ارب روپے ہوگئی ہے جبکہ ٓائندہ مالی سال 2025-26 ءتک یہ فنڈ150 ارب روپے تک بڑھانے کا فیصلہ کیاہے۔

دستیاب شواہد کے مطابق سال 2013 ء خیبرپختونخوا کا مجموعی قرضہ 4.8 ارب روپے تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا،2019 ءمیں یہ قرضہ بڑھ کر 236 ارب روپے ہوگیا جو جون 2023ءتک مزید بڑھ گیا اور صوبے پر قرضوں کا حجم 531 ارب روپے تک جاپہنچا جبکہ جون 2024 ءتک یہ 680 ارب روپے تک بڑھ گیا اس طرح مئی 2025ءمیں خیبرپختونخوا کا مجموعی قرضوں کا حجم725 ارب روپے تک پہنچ گیاہے۔

مالی سال 2023-24 کے دوران خیبرپختونخوا حکومت نے مجموعی طورپر 38.73 ارب روپے قرضوں کی ادائیگی کی جسمیں 24.79 ارب روپے اصل رقم جبکہ 13.95 ارب روپے سود کی مدمیں ادا ئیگی ہوئی ۔

رواں مالی سال کے دوران صوبائی حکومت نے قرضوں کی ادائیگی کے لئے مجموعی طورپر 67 ارب روپے مختص کئے تھے جن میں 40 ارب روپے قرضہ جبکہ 27 ارب روپے سود کی مد میں ادائیگی شامل ہیں ۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے بجٹ  میں  خیبرپختونخوا حکومت کےلئے 178 ارب روپے کی سرپلس کا ٹارگٹ دیاہے جبکہ حالیہ جائزہ اجلاس میں آئی ایم ایف نے خیبرپختونخوا حکومت کے لئے ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کے ٹارگٹس بھی بڑھا دئیے ہیں۔

اس طرح رواں مالی سال 2024-25 کے دوران خیبرپختونخوا 178 ارب روپے سرپلس دینے کاپابند ہے جبکہ آئی ایم ایف نے ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 41 ارب روپے کا اضافہ بوجھ بھی خیبرپختونخوا حکومت پر ڈال دیاہے اس حوالے سے فنانس ڈویڑن نے خیبرپختونخوا حکومت کو آگاہ کردیاہے ۔

ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈز میں اضافے سے آئندہ مالی سال 2025-26 کے لئے آئی ایم ایف کے سرپلس کی شرط بھی پورا ہونے کا امکان ہے ،اور ساتھ ہی ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ سے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگنے کے امکانات بھی کم ہوجائینگے جس سے آئندہ مالی سال تمام ترقیاتی پراجیکٹس کے لئے بغیر کسی مشکل کے فنڈز کا اجراءکیا جاسکتاہے۔

محکمہ خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈکی رقم 50 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے اور آئندہ مالی سال اس فنڈ میں 100 ارب روپے اضافہ کرنے کی تجویز ہے اس طرح ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈز کی رقم آئندہ مالی سال کے دوران 150 ارب روپے تک بڑھ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ہیش ٹیگ ’’فیلڈمارشل فاتح حق عاصم منیر ‘‘ ایکس پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

وزیراعلی کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے پختون ڈیجیٹل کوڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ میں اضافے کی تصدیق کی ہے اور بتایاہے کہ آئندہ مالی سال 2025-26 ءکے لئے اس فنڈ کو 150 ارب روپے تک لے جانے کی تجویز ہے، تاہم فنڈز کی فراہمی سے متعلق کابینہ کا فیصلہ حتمی ہوگا اور اس کی باقاعدہ منظوری کابینہ سے لی جائے گی۔

Scroll to Top