خیبرپختونخوا میں سرکاری محکموں کی ٹیکنیکل بھرتیوں کے لیے سند یافتہ ہونا لازمی قرار

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ کابینہ اراکین، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں محکمہ صنعت کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے فنی تعلیم کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر مضبوط کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے اس شعبے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فنی تربیت کے نظام کو قومی اور بین الاقوامی روزگار کی منڈیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، اس ضمن میں انہوں نے فنی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے اسکالرشپ کی فراہمی کے لیے انڈومنٹ فنڈ کے قیام اور انٹرنیشنل سرٹیفیکیشن پر کام کرنےکی ہدایت بھی جاری کی۔

وزیر اعلیٰ نے ٹیکنیکل اداروں اور مقامی صنعتوں کے مابین روابط کو مذید مضبوط بنانے کی ہدایت کی ۔

وزیراعلی نے کہاکہ سرکاری محکموں میں ٹیکنیکل اسٹاف کی بھرتی کے لیے سند یافتہ ہونا لازمی قرار دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پلمبر، الیکٹریشن اور ڈرائیور سمیت کسی بھی تکنیکی آسامی پر غیر سند یافتہ فرد کی بھرتی سند یافتہ امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہوگی،اس مقصد کے لئے تمام محکمے متعلقہ قواعد و ضوابط میں ضروری ترمیم کریں۔

صنعتی ترقی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں اکنامک زونز اور انڈسٹریل زونز کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے، جاری منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے، اور موزوں مقامات پر نئے اقتصادی زونز کے قیام کے لیے منصوبہ جات تجویز کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں :میرٹ کی دھجیاں، بدانتظامی کا راج: خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا ہسپتال سیاسی مداخلت کی زد میں

انہوں نے کہا کہ صوبے میں صنعت و تجارت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، اور صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو ایک ہی چھت تلے سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے بھی مؤثر اقدامات جاری ہیں۔

Scroll to Top