گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے بھر میں کرپشن عروج پر ہے، جہاں 500 سے 700 ارب روپے کی مالی بدعنوانی ہو چکی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کنڈی نے کہا کہ ریاست مدینہ کی باتیں کرنے والے خود سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں علی بابا اور چالیس چوروں کی حکومت قائم ہے۔
انہوں نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اے پی ایس سانحے میں بھی بچوں کو نشانہ بنا چکے ہیں، حالانکہ جنگ کے دوران خواتین اور بچوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ یہ دشمن بزدل ہیں اور ہماری سکیورٹی فورسز کا مقابلہ نہیں کر سکتے،گورنر نے کہا۔فیصل کریم کنڈی نے افغانستان سے دہشت گردی کے خدشات پر بھی بات کی اور کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے پاک فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری مسلح افواج نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔تعلیم و صحت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے اور ان شعبوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا اسمبلی میں کرپشن اور بھرتیوں کی چھان بین مکمل،رپورٹ عمران خان کو ارسال
انہوں نے سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مقدمہ عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے بلاول بھٹو نے لڑا ہے۔گورنر کنڈی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔





