دو سال، تین شعبے، درجنوں اہداف، کے پی میں ترقی کا نیا سفر شروع،وزیراعلیٰ نے گڈ گورننس روڈ میپ کا اجرا کر دیا

دو سال، تین شعبے، درجنوں اہداف، کے پی میں ترقی کا نیا سفر شروع،وزیراعلیٰ نے گڈ گورننس روڈ میپ کا اجرا کر دیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے کی ترقی اور بہتر حکمرانی کے لیے گڈ گورننس روڈ میپ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت آئندہ دو برسوں کے دوران اصلاحاتی اہداف کو حاصل کرنے پر زور دیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں بتایا کہ روڈ میپ کو تین اہم شعبوں پر مشتمل کیا گیا ہے جن میں گڈ گورننس، اسمارٹ ڈویلپمنٹ اور مضبوط سیکیورٹی شامل ہیں۔ ان شعبوں میں مؤثر پیشرفت کے لیے واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں تاکہ ترقیاتی عمل کو تیز اور شفاف بنایا جا سکے۔

علی امین گنڈاپور کے مطابق، سیکیورٹی کی بہتری کے لیے پروینشنل ایکشن پلان پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا، جبکہ اسمارٹ ڈویلپمنٹ کے تحت منصوبہ جات کی بروقت تکمیل، فنڈز کی مؤثر تقسیم اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔

روڈ میپ کے تحت صحت کے شعبے میں بھی نمایاں اقدامات شامل ہیں، جن میں 250 بنیادی و دیہی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن، 100 سے زائد اسپتالوں کو طبی آلات اور ادویات کی فراہمی اور جنوبی اضلاع میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ہر بچے تک رسائی شامل ہے۔

تعلیم کے میدان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں 50 فیصد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کمزور کارکردگی والے 1500 اسکولوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا، جبکہ 10 ہزار خصوصی افراد کو وظائف اور آلات فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹل ویلفیئر رجسٹری کا آغاز کیا جائے گا تاکہ سماجی تحفظ کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اسی طرح تین نئے اکنامک زونز مکمل کیے جائیں گے اور 32 فنی تربیتی ادارے اپ گریڈ کیے جائیں گے۔

معاشی ترقی کے لیے 751 ایکڑ پر ڈیری فارم، سالانہ ایک کروڑ مچھلیوں کی افزائش نسل، اور اعلیٰ اقسام کے پھلدار درختوں کے ہزاروں باغات لگانے کا منصوبہ شامل ہے۔ جنگلات کے فروغ کے لیے 20 لاکھ جنگلی زیتون کے پودے قلم کیے جائیں گے۔

ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے ڈی آئی خان-پشاور موٹروے پر کام کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ نیو جنرل بس اسٹینڈ پشاور کا منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔ چار منرل زونز کے قیام سے چھوٹی سطح کی کان کنی کو فروغ ملے گا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نیو پشاور ویلی میں 14 ہزار رہائشی پلاٹس تیار کیے جائیں گے اور کم آمدن والے ایک لاکھ 30 ہزار گھرانوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔ 50 نئے سیاحتی مراکز اور 7 اضلاع میں ہوم اسٹے پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔

مزید برآں، صوبے کے تمام محکموں میں ڈیجیٹل نظام کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا تاکہ انتظامی امور کو جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر بنایا جا سکے۔

Scroll to Top