خیبرپختونخوا میں کرپشن عروج پر، سینئر صحافی عرفان خان کا وزراء کو کھلا چیلنج

پشاور :خیبرپختونخوا میں بی آر ٹی منصوبہ اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق سینئر صحافی عرفان خان نے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، جنہوں نے ایک بار پھر صوبے میں حکومتی شفافیت اور احتساب پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

عرفان خان کے مطابق بی آر ٹی منصوبے کے آغاز پر بتایا گیا تھا کہ بسیں ہائبرڈ ہوں گی، تاہم حقیقت میں یہ بسیں ڈیزل پر چل رہی ہیں، جن کا صرف ایک دن کا ایندھن خرچ بیس لاکھ روپے ہے۔ منصوبے کے لیے 100 ارب روپے قرض لیا گیا، جس پر 10 ارب روپے سود ادا کیا جا رہا ہے جبکہ ہر سال 5 ارب روپے کی سبسڈی بھی دی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔

صحافی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے ترقیاتی کارکردگی کے بجائے کرپشن میں برتری حاصل کی ہے۔ عرفان خان نے الزام عائد کیا کہ مختلف سرکاری محکموں کے افسران، سیکرٹریز سے بھی زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں کیونکہ ان کی براہ راست رسائی وزیر اعلیٰ، ان کے بھائی فیصل امین گنڈاپور، اور چیف سیکرٹری تک ہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کے تمام وزراء کو چیلنج دیا کہ وہ کسی بھی فورم پر بلا کر دکھائیں، وہ ثابت کریں گے کہ کرپشن کہاں کہاں ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2016 میں اس وقت کے اسپیکر اسد قیصر کے خلاف کرپشن اسکینڈل پر خبر شائع کی تو متعلقہ اخبار کے اشتہارات بند کروا دیے گئے۔

عرفان خان نے کہا کہ صوبے میں غیرقانونی مائننگ کی اطلاعات، پوسٹنگ و ٹرانسفر کے بدلے پیسوں کی لین دین، اور سرکاری تقریبات میں بے جا اخراجات عام ہو چکے ہیں۔ ایک تقریب پر مبینہ طور پر 5 کروڑ روپے خرچ ہوئے، لیکن اہلکار سے 32 کروڑ نکالنے کا کہا گیا، انکار پر اسے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

انہوں نے تنقید کی کہ سوشل میڈیا پر خیبرپختونخوا کی مثالی تصویر پیش کی جاتی ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کوہستان کرپشن اسکینڈل،پی اے سی کا اکاؤنٹنٹ جنرل کے تبادلے پر شدید اظہارِ برہمی،اہم خبر آگئی

اسپیکر صوبائی اسمبلی پر اعظم سواتی کی جانب سے کرپشن کے الزامات لگائے گئے تھے۔ اگرچہ صوبائی احتساب کمیٹی نے بابرسلیم سواتی کو کلین چٹ دے دی، رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ اسمبلی میں غیرقانونی بھرتیاں اور قواعد کے برعکس ترقیاں دی گئیں۔ جواباً اسپیکر نے اعظم سواتی کو پیدائشی جھوٹا قرار دیا، لیکن عوام اب بھی دیگر سیاسی جماعتوں کو زیادہ کرپٹ سمجھتی ہے۔

Scroll to Top