اسپیکر بابر سلیم سواتی نے تبادلے کو نہایت تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے وقت پر کی جانے والی تقرری و تبادلے شفاف تحقیقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور اسپیکر صوبائی اسمبلی، بابر سلیم سواتی، نے 40 ارب روپے کے کوہستان کرپشن سکینڈل کی تحقیقات کے دوران صوبے کے اکاؤنٹنٹ جنرل نصیرالدین سرور کے اچانک تبادلے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
22 مئی 2025 کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اسلام آباد کے نام ایک باضابطہ مراسلے میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس غیر متوقع تبادلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معاملے پر فوری وضاحت طلب کی ہے۔
خط میں اسپیکر بابر سلیم سواتی نے تبادلے کو نہایت تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے وقت پر کی جانے والی تقرری و تبادلے شفاف تحقیقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی بدعنوانیوں کی اس نوعیت کی بڑی کارروائی متعلقہ افسران کی ملی بھگت یا غفلت کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے تبادلے کے وقت اور نیت پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ نصیرالدین سرور کو اب ڈی جی انویسٹی گیشن، ویجیلنس و ریگولیشن کے منصب پر تعینات کر دیا گیا ہے، جو کہ بذاتِ خود ان بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے انچارج ہوں گے۔ اس صورتحال پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس تقرری سے شفافیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں اور کوہستان اسکینڈل کی تحقیقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ خط اسپیکر کے احکامات پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری کی جانب سے ارسال کیا گیا، جس میں کمیٹی کے تمام تر تحفظات کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے تبادلے کے وقت، وجوہات اور ممکنہ اثرات پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔
سیاسی و انتظامی حلقے اس پیش رفت کو صوبے کی تاریخ کے ایک بڑے مالی اسکینڈل میں شفاف تحقیقات کے عمل پر ممکنہ اثر کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ عوامی و عدالتی حلقوں میں بھی اس حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔





