مہنگائی کی نئی لہر؟ آئندہ مالی سال میں شرح 7.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان

حکومت پاکستان نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے، جس سے عام آدمی کو درپیش مالی دباؤ میں اضافے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق، منصوبہ بندی کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ تخمینوں میں بتایا گیا ہے کہ صارف قیمت اشاریہ (CPI) کی بنیاد پر اوسط مہنگائی کی شرح آئندہ مالی سال میں 7.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو کہ رواں مالی سال کی اوسط 5 فیصد مہنگائی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

وزارت نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر درآمدات پر عائد پابندیاں نرم کی گئیں اور قرضوں کی ادائیگیاں جاری رہیں، تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے، جس کے باعث بیرونی شعبہ آئندہ مالی سال میں دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کا اجلاس 2 جون 2025 بروز پیر متوقع ہے، جس میں مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی معاشی فریم ورک کی منظوری دی جائے گی۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے 4.2 فیصد کی جی ڈی پی شرحِ نمو (growth rate) کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو کہ رواں سال کی 2.68 فیصد شرح سے خاصی زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے خدشات اور بیرونی دباؤ کے پیش نظر حکومت کو مالی نظم و ضبط، درآمدی پالیسیوں اور زر مبادلہ کے ذخائر پر خصوصی توجہ دینی ہوگی، تاکہ معیشت کو استحکام کی جانب گامزن رکھا جا سکے۔

Scroll to Top