افغانی مہاجرین کا مسئلہ سیاست سے نہیں، انسانی بنیادوں پر حل ہونا چاہیے، طاہر خان

پشاور: سینئر صحافی طاہر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی بحران کی کوئی گنجائش نہیں، اور جب بات قومی مفاد کی ہو تو تمام سیاسی جماعتوں کو انا، ضد اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک مؤقف اپنانا ہوگا۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک افغان تعلقات میں اگرچہ کشیدگی موجود ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سرحد بند نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی مارکیٹیں ایک دوسرے کے لیے انتہائی اہم ہیں، اور پشاور سے کابل تک زمینی راستہ صرف چھ گھنٹے کا ہے، جس سے تجارت اور عوامی رابطے مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

طاہر خان نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے پر حالات کی خرابی کا الزام لگاتے ہیں، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کو بھلا کر مثبت سمت میں آگے بڑھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مخالفت کی تھی، تاہم اب دونوں ممالک کو نئے عزم کے ساتھ تعلقات کی بہتری پر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کا مسئلہ انسانی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے اور دونوں ممالک کو اس معاملے پر سیاست کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف پالیسیاں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، کبھی الگ نہیں ہوسکتا، ڈی جی آئی ایس پی آر

طاہر خان نے بتایا کہ افغان عبوری حکومت نے مہاجرین کی واپسی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کی تجویز دی ہے، اور اپریل سے افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز کی واپسی کا عمل جاری ہے، جبکہ پی او آر کارڈ ہولڈرز کے لیے 30 جون آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے، تاہم ابھی تک اس میں توسیع کا فیصلہ نہیں ہوا۔

انہوں نے سابق افغان صدر حامد کرزئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان جڑواں ممالک کی طرح ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفیروں کی تعیناتی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے طاہر خان نے امید ظاہر کی کہ اب رسمی سفارتی تعلقات بحال ہوں گے اور باقاعدہ معاہدے بھی طے پائیں گے، جو گذشتہ چار سال سے تعطل کا شکار تھے۔

Scroll to Top