اب کتنی تنخواہ پر کتنا ٹیکس کٹے گا ؟ تفصیلات جاری

مجوزہ فنانس بل 2025-26 میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف آمدنی کی سلیبز میں انکم ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے، جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے زیرو ٹیکس کی سہولت برقرار رکھی گئی ہے۔

فنانس بل کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک تنخواہ پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، جب کہ اگلی سلیبز میں ٹیکس کی شرح میں واضح کمی کی گئی ہے:

6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر 2.5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا (پہلے 5 فیصد تھا)
12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک سالانہ آمدنی پر ٹیکس شرح 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ 6 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس بھی لاگو ہوگا
22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدنی پر انکم ٹیکس 23 فیصد مقرر کیا گیا ہے (پہلے 25 فیصد تھا)، اور 1 لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس بھی دینا ہوگا
32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدنی پر 30 فیصد انکم ٹیکس کے ساتھ ساتھ 3 لاکھ 46 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس بھی عائد کیا جائے گا
41 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدنی پر 35 فیصد انکم ٹیکس اور 6 لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس لاگو ہوگا

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد مہنگائی کے شکار مڈل کلاس کو ریلیف دینا ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے اعلیٰ آمدنی والے افراد پر ذمہ داری کا بوجھ بڑھایا گیا ہے۔

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ان تجاویز کو پارلیمنٹ سے منظوری مل گئی تو تنخواہ دار طبقے کو قابلِ قدر ریلیف ملے گا، تاہم بجٹ کا مجموعی بوجھ دیگر شعبوں پر منتقل ہونے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

Scroll to Top