وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے 26ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدلیہ پر ’’مارشل لا‘‘نافذ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی اداروں کا کردار اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا اور جلد ’’76 سالہ فرعونیت‘‘ اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گنڈاپور نے موجودہ عدالتی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء غیر سنجیدہ حربے اپنا رہے ہیں، ’’آج وکیل صاحب نے ڈرامہ رچایا، کہتے ہیں کہ کیس کا علم نہیں تھا، جبکہ جج صاحب بھی چھٹی پر چلے گئے۔ آنے والے دنوں میں بھی ایسے ہی بہانوں کی توقع ہے۔‘‘
انہوں نے زیر سماعت مقدمے کو ’’جھوٹا کیس‘‘قرار دیا اور کہا کہ ’’اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر آئینی حق دینا ممکن نہیں تو ہم سڑکوں پر نکلنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ آخری مرتبہ ہم پر گولیاں برسائی گئیں۔‘‘
گنڈاپور نے دعویٰ کیا کہ میڈیا ان کے بیانات کو ایڈٹ کرتا ہے، ’’میری بات کاٹی جاتی ہے۔ میں صاف کہتا ہوں، اس بار اگر آپ کے پاس ہتھیار ہیں، تو ہم بھی خالی ہاتھ نہیں آئیں گے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اوورسیز پاکستانی بدستور بانی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ’’بانی پی ٹی آئی قوم کی آواز اور عزت و وقار کی علامت بن چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ’’بانی پی ٹی آئی نہ جھکنے والا ہے، نہ ڈیل کرنے والا۔ وہ جیل میں بھی بنی گالہ سے زیادہ مضبوط ہیں۔ موجودہ تحریک آر یا پار کی کیفیت اختیار کر چکی ہے۔‘‘
گفتگو کے اختتام پر انہوں نے ایک بار پھر اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’اداروں کا کردار پوری قوم کے سامنے ہے، جلد یہ فرعونیت اپنے اختتام کو پہنچے گی۔‘‘





