بجلی دینے سے قاصر حکومت نے سولر پر بھی ٹیکس لگا دیا، مینا خان آفریدی

پشاور :خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے وفاقی بجٹ کو غریب دشمن اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ناروا سلوک قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک بار پھر عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا ہے، جس سے نہ صرف عام آدمی کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے بلکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ پچھلے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں جو اضافہ کیا گیا تھا، اس پر لگنے والے ٹیکس کی وجہ سے اصل تنخواہ میں کمی محسوس کی گئی تھی۔

مینا خان آفریدی کا کہنا تھا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو مسلسل کم ہو رہی ہے اور حالیہ بجٹ میں بھی کوئی خاص بہتری دیکھنے کو نہیں ملی،زراعت جیسا اہم شعبہ جو کہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے بھی زوال کا شکار ہے۔

وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا کو نظر انداز کیے جانے پر انہوں نے کہاکہ ہزاروں ارب روپے کے بجٹ میں ہمارے صوبے کے لیے صرف 55 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جو کل بجٹ کا محض 1 فیصد ہے۔ یہ صوبے کے ساتھ سراسر ناانصافی اور حق تلفی ہے۔

انہوں نے لوڈشیڈنگ کے مسئلے اور سولر پینلز پر ٹیکس کے نفاذ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اگر آپ دیکھیں تو ایک جانب یہ بجلی نہیں دے سکتے، گھنٹوں کے حساب سے لوڈ شیڈنگ ہے، بہت سی جگہوں پر بجلی ہے ہی نہیں،اس کے باوجود پتہ نہیں کس کے فائدے کیلئے اب سولرز پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :جنوبی افریقہ میں شدید برفباری، جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات

مینا خان آفریدی نے اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا کا آئندہ بجٹ عوام دوست اور کلین بجٹ ہوگا، جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،ہماری ترجیحات تعلیم اور صحت ہیں، اور ان شعبوں کے لیے ایک بڑا بجٹ مختص کیا جائے گا۔

Scroll to Top