پشاور(سلمان یوسفزئی)خیبر پختو نخوا کے ضلع بنوں میں پولیو کا نیا کیس سامنے آگیا،قومی ادارہ صحت نے نئے کیس کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیو کا نیا کیس 33 ماہ کے ایک بچے میں سامنے آیا ہے جو یونین کونسل شمسی خیل ضلع بنوں کا رہائشی ہے۔
یہ رواں سال خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہونے والا چھٹا پولیو کیس ہے۔ مجموعی طور پر 2025 کے دوران ملک بھر میں اب تک پولیو کے 12 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے 6 خیبر پختونخوا، 4 سندھ، جبکہ پنجاب اور گلگت بلتستان سے ایک ایک کیس شامل ہے۔
اگرچہ ملک بھر میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں اور ویکسینیشن مہمات کے معیار میں بہتری دیکھی گئی ہے تاہم خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اب بھی تشویشناک علاقوں میں شامل ہیں۔
ان علاقوں میں گھر گھر جا کر ویکسین دینے میں مشکلات، رسائی میں رکاوٹیں اور والدین کا انکار ہزاروں بچوں کو پولیو ویکسین سے محروم کر دیتے ہیں جس سے وہ وائرس کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔
سال 2025 میں پاکستان پولیو ایریڈیکیشن پروگرام نے فروری، اپریل اور مئی میں تین قومی مہمات چلائیں جس کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔ ان مہمات میں 4 لاکھ سے زائد فیلڈ ورکرز شریک تھے جن میں 2 لاکھ 25 ہزار سے زائد خواتین شامل تھیں۔
یہ پیش رفت تمام شراکت دار اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور والدین و عوام کے اعتماد کا مظہر ہے تاہم جنوبی خیبر پختونخوا سمیت بعض علاقوں میں درپیش چیلنجز ویکسینیشن کی مکمل کوریج میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
پولیو ایک خطرناک لاعلاج اور انتہائی متعدی بیماری ہے جو متاثرہ بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کر سکتی ہے۔ اس سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ ہر مہم میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو بار بار پولیو ویکسین دینا اور تمام ضروری حفاظتی ٹیکوں کی بروقت تکمیل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
پولیو ایریڈیکیشن پروگرام کی جانب سے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں کیونکہ ہر خوراک بچوں کی قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے اور انہیں زندگی بھر کی معذوری سے محفوظ رکھتی ہے۔ وائرس کا مکمل خاتمہ عوامی تعاون اور آگاہی سے ہی ممکن ہے۔





