خیبرپختونخوا اسمبلی کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں، نہ ہی جیل سے چلایا جا سکتا ہے،فیصل کریم کنڈی

پشاور:وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں دیے گئے بیان پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلی کے فلور کو آئینی و مالی معاملات پر گفتگو کے بجائے ذاتی وفاداری، بے بنیاد الزامات اور خطرناک سیاسی بیانیے کی نذر کیا گیا۔

گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جو شخص مسلسل یہ دعویٰ کرے کہ وہ ایک سزا یافتہ قیدی کی ہدایات پر حکومت چلا رہا ہے، وہ جمہوریت کا نہیں بلکہ شخصی آمریت کا نمائندہ ہے۔ خیبرپختونخوا کی اسمبلی کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں، نہ ہی جیل کی بیرک سے اس کا نظام چلایا جا سکتا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کا یہ دعویٰ کہ “خان کے بغیر اسمبلی ختم نہیں ہو سکتی اور وہ سانس لینے سے پہلے اسے تحلیل کر سکتے ہیں” نہ صرف آئینی بغاوت ہے بلکہ اس امر کا کھلا اعتراف ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت عوامی مینڈیٹ نہیں، بلکہ مجبوری، خوف اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر قائم ہے۔میں نے اپنے متعدد بیانات میں پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ یہ وزیر اعلیٰ کبھی بھی اسمبلی تحلیل نہیں کرے گا، کیونکہ یہی اسمبلی اس کے لیے کرپشن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ خیبرپختونخوا کی یہ اسمبلی ان کے لیے سونے کے انڈے دینے والی مرغی ہے، جس کو یہ کسی صورت ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔گو

رنر نے کہا کہ جب اپوزیشن ممبران کے ساتھ گورنر ہاؤس میں حالیہ ملاقات ہوئی تو سب نے متفقہ طور پر اس حقیقت پر تشویش کا اظہار کیا کہ صوبہ ایک غیر سنجیدہ اور غیر آئینی طرزِ حکمرانی کا شکار ہے۔ یہ تاثر پوری طرح ابھر چکا ہے کہ صوبائی معاملات اڈیالہ جیل کی بیرک سے چلائے جا رہے ہیں، جو نہ صرف آئین کی توہین ہے بلکہ عوامی مینڈیٹ کی بے توقیری بھی۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی حکومت نے دانستہ طور پر صوبے میں مالی بحران پیدا کیا،امن و امان کو بگاڑا،ضم شدہ اضلاع کو نظر انداز کیا، اور اپوزیشن کو انتقام کا نشانہ بنایا۔آج جب وہ بجٹ پاس کرنے کی بات کرتے ہیں، تو حقیقت یہ ہے کہ یہ ان کی آئینی مجبوری ہے، نہ کہ کوئی احسان۔ مگر وہ بجٹ کو بھی خان کی “اجازت” سے مشروط کر کے صوبے کے کروڑوں عوام کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا پر 2013 تک 150 ارب قرضہ تھا جو اب 800 ارب تک پہنچ چکا ہے،اپوزیشن لیڈر عباداللہ

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہا آئندہ اگر کسی بھی آئینی ذمہ داری سے انکار کیا گیا، اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، یا صوبے کو غیر جمہوری راستے پر دھکیلا گیا تو وہ بحیثیت آئینی سربراہ، آئین و قانون کے مطابق ہر ممکن قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

Scroll to Top