پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا، آج امکان تھا بانی سے کوئی واضح ہدایات مل جاتیں، جب تک ممکن تھا ہم بجٹ روک سکتے تھے ہمارے پاس 30 جون تک وقت تھا تب تک بانی کی ہدایات بھی آجاتیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 25 مارچ کے بعد عمران خان سے میری صرف دو ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتیں نہ کرانا سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے، بانی کے بنیادی حقوق کا کسی کو کوئی پاس نہیں ہے، عدالتی احکامات کا بھی کسی کوئی پاس نہیں، عدالتیں خود اپنے احکامات پر عمل کرانے سے گریزاں ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ جیل قانون، انتظامیہ کا رویہ اور عدلیہ کا کردار سب کے سامنے ہے، جن کیسز میں میں وکیل ہوں بانی کا ان کیسز میں بھی مجھے پیش نہیں ہونے دیا جاتا، لاہور میں بانی کی نو مئی کے کیسز میں ضمانت منسوخ ہونے پر افسوس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سپریم کورٹ جائیں گے اسی نظام سے بہرحال ٹکراتے رہیں گے، ہم موجودہ نظام کو شرم دلاتے رہیں گے۔
ؒخیبرپختونخوا اسمبلی کے بجٹ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کے پی بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا، آج امکان تھا بانی سے کوئی واضح ہدایات مل جاتیں، جب تک ممکن تھا ہم بجٹ روک سکتے تھے ہمارے پاس 30 جون تک وقت تھا تب تک بانی کی ہدایات بھی آجاتیں۔
یہ بھی پڑھیں :نوشہرہ، زہریلی شربت پینے سے ایک ہی خاندان کے 7 بچے بیمار، دو کی حالت نازک
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں بجٹ پر ہمیں مشاورت جاری رکھنی چاہیے تھی، پارٹی میں سوالات اٹھتے ہیں بجٹ کیوں 23 تاریخ کو پاس ہوا؟ سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا جتنا ممکن ہوسکے، 30 تاریخ تک مشاورت ہونی چاہیے مگرکے پی اسمبلی نے بظاہر عجلت سے کام لیا۔





