خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا تعلیمی اقدام، 1500 اسکول پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے، 200 نئے اسکولوں کا اعلان

خیبرپختونخوا حکومت نے تعلیمی اصلاحات کے سلسلے میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے 1500 سرکاری اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت نجی شعبے کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے 200 نئے اسکول قائم کیے جائیں گے۔

نجی ٹی وی چینل (آج )کے مطابق یہ اعلان صوبائی وزیر تعلیم فیصل ترکئی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صوبے میں تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانا اور تعلیمی معیار کو فروغ دینا ہے۔
364 ارب روپے کا تعلیمی بجٹ، 29 نئے منصوبے شامل

وزیر تعلیم نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے تعلیم کے شعبے میں 364 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، جس میں 29 نئے ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں 10 تاریخی اسکولوں کی بحالی کے لیے خصوصی فنڈ بھی رکھا گیا ہے۔

فیصل ترکئی کے مطابق تعلیم ایمرجنسی کے تحت 1.2 ارب روپے اسمارٹ کلاس رومز اور اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر پر خرچ کیے جائیں گے۔ ضم شدہ اضلاع میں اسکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 500 نئے کمروں کی تعمیر کا بھی منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام پرائمری اسکولوں میں مفت کتابوں کے ساتھ اسکول بیگز اور اسٹیشنری فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ’’تعلیم کارڈ‘‘ اسکیم پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ رواں سال کے اختتام تک صوبے کے تمام اسکولوں میں 100 فیصد فرنیچر کی فراہمی مکمل کر لی جائے گی۔

صوبے کے ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں کمپیوٹر لیبز اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔ فیصل ترکئی نے بتایا کہ مانیٹرنگ کے نظام میں بہتری کے باعث اساتذہ کی حاضری میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

وزیر تعلیم نے تسلیم کیا کہ صوبے میں اب بھی بڑی تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، تاہم حکومت ہر سال انہیں اسکول لانے کے لیے مربوط مہمات چلا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ خیبرپختونخوا کا ہر بچہ تعلیم یافتہ ہو۔

Scroll to Top