اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی ساجد مہمند نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے جذباتی بیانات دیتے ہیں، تاہم وہ یقین رکھتے ہیں کہ گنڈاپور بالآخر جمہوری راستہ ہی اپنائیں گے۔
پی ٹی آئی کی پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ساجد مہمند نے کہا کہ وہ اس بات کو مناسب نہیں سمجھتے کہ ریاست سے تصادم کا راستہ اختیار کیا جائے، اور یہی مؤقف پارٹی کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
انہوں نے پارٹی میں حالیہ اختلافات کا ذمہ دار بیرونِ ملک بیٹھے یوٹیوبرز کو ٹھہرایا جو بغیر تحقیق اور سوچے سمجھے بیانات دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق انہی یوٹیوبرز کی باتوں سے پارٹی قیادت، وزیراعلیٰ اور کارکنان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔
ساجد مہمند نے کہا کہ پی ٹی آئی کے خلاف ایک منظم منفی تاثر قائم کیا جا رہا ہے، اور میڈیا پرسنز جان بوجھ کر یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ گالم گلوچ کی سیاست پی ٹی آئی نے متعارف کرائی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیے، بیرسٹر گوہر
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے اپنے حلقے مومند کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اس وقت 20 سے 25 سڑکوں پر تعمیراتی کام جاری ہے، حالانکہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کو کوئی تعاون حاصل نہیں ہے۔





