اسلام آباد: پشتو کے معروف شاعر، ادیب اور تجزیہ کار ادریس اثر احمد زئی نے اپنی شاعری میں مشہور فلسفی اور شاعر خان عبدالغنی خان سے گہری عقیدت اور فکری وابستگی کا اظہار کیا ہے۔
ادریس اثر احمد زئی کے مطابق غنی خان پشتون قوم کے واحد فلسفی تھے جنہوں نے پشتون اسکول آف فلسفی کی بنیاد رکھی اور پشتون فکر و دانش کو نئی سمت دی۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میںگفتگو کرتے ہوئے ادریس اثر احمد زئی نے کہا کہ غنی خان کا نظریہ منفرد تھا جس میں حسن کی اصل بنیاد محبت کو قرار دیا گیا، اور یہ کہ حسن محبت سے جنم لیتا ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو میں ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا کہ کس طرح غنی خان نے خود اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنا کر مہمان کو پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں : عوامی شعور کے بغیر کوئی بھی حفاظتی حکمت عملی مکمل نہیں ہوسکتی ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پشاور
ادریس اثر احمد زئی نے کہا کہ غنی خان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی دنیا ہے جو انسان کو ظاہری قید سے آزاد کر کے خیالات کی آزادی عطا کرتی ہے۔
ان کی تحریروں میں پوشیدہ فلسفہ، خیالی دنیا اور معنویت سے بھرپور سوچ اس بات کا ثبوت ہے کہ غنی خان نے اس فانی دنیا سے الگ ہو کر ایک منفرد نظر پیدا کی۔





