پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مخصوص نشستوں پر منتخب اقلیتی اور خواتین ممبران سے حلف لینے کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔
درخواست پارٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ رحمان اللہ شاہ اور اشفاق داؤد زئی کے توسط سے دائر کی گئی جس میں الیکشن کمیشن اور سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کو بحال کیا گیا اور 2 جولائی کو الیکشن کمیشن نے ان کی بحالی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا تاہم اب تک ان ممبران سے حلف نہیں لیا گیا۔
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ سپیکر اسمبلی کو حلف کے لیے تحریری طور پر درخواست دی گئی لیکن اب تک کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا، سیکرٹری اسمبلی کے مطابق حلف صرف اسمبلی اجلاس کے دوران ہی لیا جائے گا۔
درخواست میں آئین کے آرٹیکل 255(2) کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو اراکین سے حلف لینے کے لیے نامزد کرسکتے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا میں 21 جولائی کو سینیٹ انتخابات شیڈول ہیں اور اگر مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کو وقت پر حلف نہ لینے دیا گیا تو وہ ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سینیٹ الیکشن سے قبل حلف دلوانے کے لیے فوری احکامات جاری کیے جائیں اور اس درخواست کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔





