پشاور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا لاہور کا حالیہ دورہ مریم نواز کی مکمل اجازت اور آشیرواد سے ہوا۔ ان کے مطابق دورے میں صرف کھانے کھائے گئے اور قوالی نائٹ انجوائے کی گئی، جو ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔
سینئیر صحافی کاشف الدین سید نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں گزرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے کے سنگین مسائل ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
کاشف الدین سید نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت سینیٹ انتخابات میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد نئے اراکین کی حلف برداری نہیں چاہتی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے، لیکن امکان ہے کہ ایک بار پھر سینیٹ انتخابات ملتوی ہو جائیں گے۔
امن و امان کی خراب صورتحال اور دیگر مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال وزیر اعلیٰ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔
سیلابی ریلیف کے حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس انتظامات نہیں کیے گئے، جبکہ قبائلی اضلاع میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے تھانے اب بھی کرائے کی بلڈنگز میں قائم ہیں، جو صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سانحہ سوات، تحقیقاتی رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع
پشاور ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے موقع پرگورنر خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور انجنئیر امیر مقام نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر انہوں نے خود اعتراف کیا کہ صوبے میں سیلاب کے حوالے سے اب تک کوئی مؤثر انتظامات نہیں کیے گئے اور سیاحوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کا دورہ نہ کریں۔





