فیس بک نے مونیٹائزیشن کے لیے سخت شرائط کا اعلان کر دیا

کیلیفورنیا: سماجی رابطے کے معروف پلیٹ فارم فیس بک نے مونیٹائزیشن پالیسی میں سختی کرتے ہوئے دوسروں کا مواد چوری کر کے بار بار شیئر کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کا کہنا ہے کہ ویڈیوز، تصاویر یا تحریری مواد کی نقالی کر کے شیئر کرنے والے اکاؤنٹس کی مونیٹائزیشن ختم کی جا سکتی ہے، اور ان کی پوسٹس کی رسائی (ریچ) بھی محدود کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد نیوز فیڈز میں اسپیم مواد کی بھرمار کو روکنا اور اصل تخلیق کاروں کو تحفظ دینا ہے۔

میٹا نے واضح کیا کہ فیس بک کے خودکار سسٹمز جب کسی ویڈیو کو نقل شدہ قرار دیں گے تو اس کی رسائی کم کر دی جائے گی تاکہ اصل تخلیق کار کے ویوز متاثر نہ ہوں۔

مزید یہ کہ ایک نیا فیچر بھی ٹیسٹ کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے ناظرین کو اصل ویڈیو یا مواد کے لنک پر لے جایا جا سکے گا، تاکہ تخلیق کار کو براہِ راست کریڈٹ ملے۔

میٹا کے مطابق یہ نئی پالیسیاں آئندہ مہینوں میں مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔ تاہم انسٹاگرام یا تھریڈز پر ایسی کسی تبدیلی کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : فیس بک کا چوری شدہ مواد پوسٹ کرنے والوں کو سخت وارننگ

سال 2025 کی پہلی ششماہی میں فیس بک نے اسپیمی رویے اور جعلی انگیجمنٹ میں ملوث پانچ لاکھ سے زائد اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ تخلیق کار جو کسی اور کے مواد پر تبصرہ، ردعمل یا نیا پہلو شامل کرتے ہیں، ان پر نئی پالیسیوں کا اطلاق نہیں ہو گا۔

فیس بک نے مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی کا مواد دوبارہ شیئر کیا جائے تو اس میں بامقصد ترمیم، وائس اوور یا تبصرہ ضرور شامل کریں، اور واضح واٹرمارک یا دوسرے پلیٹ فارم سے لی گئی ویڈیوز سے اجتناب کریں۔

Scroll to Top