پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا ہے کہ 9 مئی کے بعد پریس کانفرنس کرنے والے افراد کو پارٹی ٹکٹ دینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کے مطابق انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام فیصلے بانی چیئرمین عمران خان کی مشاورت سے کیے گئے ہیں اور کسی بھی نامزد امیدوار کا انتخاب بغیر ان کی منظوری کے نہیں ہوا۔
جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مرزا آفریدی کا نام بھی بانی پی ٹی آئی نے خود فائنل کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرزا آفریدی نے کبھی پارٹی کے خلاف بیان نہیں دیا، اور وہ ہمیشہ پارٹی بیانیے اور مفادات کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات پُرامن اور منظم انداز میں مکمل ہوئے، اور مارچ 2024 میں ہی تمام نام فائنل کر لیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کی تاخیر نے سینیٹ الیکشن کے عمل کو وقتی طور پر متاثر کیا، مگر جیسے ہی فیصلہ آیا، ہمیں اندازہ تھا کہ نشستوں کی تعداد کم ہو سکتی ہے، اس کے باوجود ہمیں 6 نشستیں ملی ہیں، جو ہماری توقعات کے مطابق ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دو سال سے پارٹی قیادت اور کارکنان پر سختیاں جاری ہیں، جنہیں اب ختم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں عدالتی حکم کے باوجود محدود کی جا رہی ہیں۔ آخری ملاقات بیرسٹر سیف اور بعد ازاں پارٹی چیئرمین کی بہنوں کی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مذاکرات کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب ہر فیصلہ عمران خان کی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا۔ گوہر نے کہا کہ بانی چیئرمین جیل سے احتجاج کی خود قیادت کریں گے۔
ادھر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے 26 نومبر احتجاج میں فائرنگ اور ہلاکتوں سے متعلق دائراندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت سیشن جج ناصر جاوید رانا نے کی، جبکہ بیرسٹر گوہر خود عدالت میں پیش ہوئے۔ تاہم وہ آج بھی ابتدائی بیان ریکارڈ نہ کرا سکے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ پی ٹی آئی نے اس کیس میں وزیراعظم، وزیر داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔





