عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے سینیٹ انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں سامنے آنے والے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو مکمل سپورٹ دی ہے اور ان کی مدد سے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔
قومی اخبار (روزنامہ پاکستان ویب سائٹ)کے مطابق ایمل ولی خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’علی امین کو مبارک ہو، اس نے پیپلزپارٹی کا سینیٹر بھی بنوا دیا، (ن) لیگ کا بھی اور جے یو آئی کا بھی۔ الحمدللہ علی امین گنڈاپور نے پی ڈی ایم کا پورا ساتھ دیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ جو نتائج سامنے آئے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں اکثریت ہونے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے، جو ’’سیاسی سودے بازی‘‘ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
مراد سعید سے متعلق سوال پر ایمل ولی خان نے کہا، ’’ظاہر ہے چار پانچ لوگ تو اپنے لانے تھے، نہیں تو وہ بھی دے دیتے۔ جو ہلکے پھلکے لے آئے ہیں، دیکھتے ہیں مراد سعید کا آنا ہے یا نہیں۔ لگتا ہے یہ کرسی خالی ہی رہے گی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے لوگ پختونخوا کی نمائندگی کے لیے شور مچاتے تھے، مگر اب خود ہی اپنی مرضی سے نمائندگی کو ختم کر دیا گیا۔ ’’مجھے طعنے دیے گئے، گالیاں دی گئیں، لیکن میں ایک پختون علاقے کا نمائندہ ہوں اور ہمیشہ یہ کہتا رہا ہوں کہ بلوچستان کے 11 اضلاع پختونوں کے ہیں، اور وہاں سے نمائندگی میرا حق ہے۔‘‘





