9 مئی کیس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزاؤں پر چیئرمین بیرسٹر گوہر کا ردعمل سامنے آگیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وفاقی دارالحکومت میں دیگر سینئر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے 9 مئی کے مقدمات میں عدالتوں کے حالیہ فیصلوں پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آج ہماری پٹیشن پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم عدالتوں نے دو متنازعہ فیصلے دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر سزائیں سنائی گئیں جو ہمارے رہنماؤں کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے ایسے فیصلوں میں نئے باب کا اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے عوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی ہے، مگر آج کے فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ عدلیہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

سلمان اکرم راجہ
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج کی سزائیں جمہوریت کو سزا دینے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمات میں صرف دو گواہ پیش کیے گئے جو ایک ہی کہانیاں دہرا رہے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ سیاسی معاملہ نہیں رہا بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے اور اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا اس نظام کو برداشت کیا جائے یا اسے تبدیل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں آئین کی کھلی خلاف ورزی ہیں ،علی امین گنڈاپور

بابر اعوان
رہنما بابر اعوان نے کہا کہ یہ فیصلے 5 اگست کی تحریک سے منسلک ہیں اور جنہیں سزائیں دی گئی ہیں وہ ضمیر کے قیدی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے رول آف لا کو قتل کیا جا رہا ہے اور تمام سزاؤں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

بابر اعوان نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردوں کے خلاف ٹرائلز کہاں ہو رہے ہیں اور 9 مئی کے مقدمات میں سی سی ٹی وی فوٹیج کہاں ہے۔

شیخ وقاص اکرم
سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی ان سزاؤں کو واضح الفاظ میں مسترد کرتی ہے اور انہیں ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر واقعے سے سات گھنٹے پہلے درج کر لی گئی تھی اور تفتیشی نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وقوعہ کا دورہ تک نہیں کیا گیا۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کا موقف ہے کہ یہ تمام فیصلے سیاسی انتقام پر مبنی ہیں اور جمہوریت اور عدالتی نظام کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں۔

Scroll to Top